ابو طالب کو حضور کا محسن کہنا کیسا؟

سوال: ابو طالب، ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے محسن ہیں، کیا یہ کہنا جائز ہے؟ اس کا جواب چاہیے مجھے۔

المستفتی: اذحان اقبال نعیمی۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب محسن کائنات، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب کے عذاب کی تخفیف کے دو سبب، بیان فرمائے ہیں:  اول، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ابو طالب کی قرابت۔  دوم، حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ، ابو طالب کا احسان۔

المعجم الکبیر میں ہے: ’’ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ وإِيواءِ الْيَتِيمِ وَإِطْعَامِ الضَّيْفِ وَإِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ وَكُلُّ هَذَا قَدْ كَانَ يَفْعَلُهُ هِشَامُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَمَا ظَنُّكَ بِهِ أَيْ رَسُولُ اللهِ؟، فَقَالَ: ((كُلُّ قَبْرٍ لَا يَشْهَدُ صَاحِبُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَهُوَ جَذْوَةٌ مِنَ النَّارِ، وَقَدْ وَجَدْتُ عَمِّي أَبَا طَالِبٍ فِي طَمْطَامٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجَهُ اللهُ بِمَكَانِهِ مِنِّي وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ فَجَعَلَهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ))‘‘۔ (المعجم الکبیر، امام طبرانی، ج۲۳ص۴۰۵، رقم:۹۷۲، ط: مکتبہ ابن تیمیہ، قاہرہ)

اس فرمان عالی شان کے ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ جملہ: ’’ابو طالب، ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے  محسن ہیں‘‘۔  کہا جاسکتا ہے۔

مگر اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان نے حدیث میں وارد لفظ ’’إحسان‘‘ کا ترجمہ ’’خدمت‘‘ فرمایا ہے۔

فتاوی رضویہ کا ترجمہ یہ ہے: ((میں نے خود اپنے چچا ابو طالب کو سرسے اونچی آگ میں پایا، میری قرابت و خدمت کے باعث، اللہ تعالی نے اسے وہاں سے نکال کر، پاؤں تک آگ میں کردیا))  (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی، کتاب العقائد و الکلام، ج۱۸ص۴۲۶، ط: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)

اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ کا حدیث کے ترجمہ میں احسان و محسن سے عدول کرکے، اس کا ترجمہ خدمت، فرمانا، اس بات پر دلیل ہے کہ ابو طالب کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا محسن کہنا یا ان کی خدمت کو احسان سے تعبیر کرنا، مناسب نہیں؛ اس لیے سوال میں مذکور جملہ کہنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ نیز اس لیے بھی احتراز چاہیے کہ ابو طالب پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا جو احسان ہے، وہ ان کی خدمت پر بہت بھاری ہے کہ آپ کی قرابت کی وجہ سے اللہ تعالی نے ابو طالب کو آگ کے دلدل سے نکال کر، پاؤں تک کی آگ میں کردیا، اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے؛ تو حقیقت میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم، ابو طالب کے محسن ہیں، نہ کہ ابو طالب، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا محسن۔

کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ پہلے ابو طالب نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ہے ، اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی قرابت کے سبب، ابو طالب سے عذاب کی تخفیف ہوئی ہے؛ اس لیے پہلے محسن کہلانے کا حق ابو طالب کو ہی ہے۔ مگر یہ درست نہیں؛ کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم، محسن کائنات ہیں، آپ کا نور ہی سب سے پہلے پیدا کیا گیا،  آپ کے ہی دم قدم سے دنیا کا وجود ہوا؛ اس لیے اللہ تعالی کے بعد، آپ ہی پوری دنیا کے سب سے پہلے محسن اور پوری کائنات، آپ کی ناصر و خادم اور اسی میں آپ کے چچا، ابو طالب بھی شامل۔

المستدرک میں ہے: ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ((أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عِيسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ وَلَقَدْ خَلَقْتُ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ فَكَتَبْتُ عَلَيْهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولٌ اللَّهِ فَسَكَنَ))۔ (المستدرک علی الصحیحین، امام حاکم، ج۲ص۶۷۱، رقم: ۴۲۲۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۵؍ ربیع الآخر ۱۴۴۵ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.