إن الله لا یخلف المیعاد میں لا کو چھوڑ کر پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرح متین اس مسئلے میں کہ:
اگر کسی امام نے فجر میں یہ دعا کی: ربنا إنك جامع الناس لیوم لا ریب فیه إن اللہ لا یخلف المیعاد۔ اور سبقت لسانی سے لا یخلف المیعاد کا لا چھوٹ گیا، مقتدی نے آمین کہ دیا پھر امام صاحب نے سلام میں اسی دعا کو پڑھا اور پھر مقتدی نے آمین کہ دیا تو امام صاحب پر کیا حکم لگے گا؟
کیا امام پر آمین کہنے والے سے توبہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرانا ضروری ہے، اگر مقتدی نے توبہ، تجدید ایمان کرلیا لیکن تجدید نکاح نہیں کیا تو کیا بارگاہ الہی میں امام کی بھی گرفت ہوگی؟ اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم۔
المستفتی: محمد رضا، سیتا مڑھی-
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب مذکورہ صورت میں لا یخلف المیعاد کے لا کو چھوڑ کر پڑھنے کا معنی ہوگا کہ اللہ تعالی وعدہ خلافی کرتا ہے اور یہ اللہ تعالی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا ہے جو سخت بے ادبی اور کفر ہے۔
سورہ آل عمران میں ہے: ﴿رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ (۳؍۹)
اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان نے اس آیت کریمہ کا ترجمہ یوں کیا ہے: ﴿اے رب ہمارے بے شک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن کے لیے جس میں کوئی شبہ نہیں بے شک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا﴾ (کنز الإیمان)
اس آیت کی تفسیر میں صدر الأفاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ کذب منافی الوہیت ہے؛ لہذا حضرت قدوس قدیر کا کذب محال اور اس کی طرف اس کی نسبت سخت بے ادبی‘‘۔ (خزائن العرفان فی تفسیر القرآن، آل عمران:۳، آیت: ۹، ص۸۱)
امام ناصر الدین بیضاوی فرماتے ہیں: ’’الکذب علی اللہ تعالی محال‘‘۔ (طوالع الأنوار من مطالع الأنظار، ناصر الدین بیضاوی، الفصل الثانی فی سائر الصفات، المبحث الثانی، ص۱۸۹، ط: المکتبۃ الأزھریۃ للتراث، قاہرہ، مصر)
امام جلال الدین دوانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ذھب بعض العلماء إلی أن الخلف في الوعید جائز علی اللہ تعالی لا في الوعد و بھذا ورت السنة‘‘۔ (شرح العقائد العضدیۃ، جلال الدین دوانی، ص۱۰۲)
اگر واقعی امام نے سبقت لسانی کی بنیاد پر اسی طرح غلط پڑھایعنی صحیح پڑھنا چاہ رہا تھا مگر اس نے غلط پڑھ دیا؛ تو اس پر کوئی گناہ نہیں، لیکن اگر اس نے جان بوجھ کر ایسا پڑھا اگرچہ اس نے ایسا ہی غلط یاد کیا تھا اور اس کو معنی بھی معلوم نہیں تھا؛ تو اس پر توبہ، تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے اور آمین کہنے والے مقتدی پر ہر دو صورت توبہ، تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے، اگر توبہ و تجدید ایمان کرلیا مگر تجدید نکاح نہیں کیا؛ تو اپنی بیوی سے قربت نہیں کرسکتا، اگر کرے گا؛ تو زنا ہوگا۔
رد المحتار میں ہے: ’’ثُمَّ قَالَ فِي الْبَحْرِ وَالْحَاصِلُ: أَنَّ مَنْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لِلْكُفْرِ هَازِلًا أَوْ لَاعِبًا كَفَرَ عِنْدَ الْكُلِّ وَلَا اعْتِبَارَ بِاعْتِقَادِهِ كَمَا صَرَّحَ بِهِ فِي الْخَانِيَّةِ وَمَنْ تَكَلَّمَ بِهَا مُخْطِئًا أَوْ مُكْرَهًا لَا يَكْفُرُ عِنْدَ الْكُلِّ، وَمَنْ تَكَلَّمَ بِهَا عَامِدًا عَالِمًا كَفَرَ عِنْدَ الْكُلِّ وَمَنْ تَكَلَّمَ بِهَا اخْتِيَارًا جَاهِلًا بِأَنَّهَا كُفْرٌ فَفِيهِ اخْتِلَافٌ‘‘۔ (رد المحتار، امام ابن عابدین شامی، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۴ص۲۲۴، ط: دار الفکر، بیروت)
فتاوی عالم گیری میں ہے: ’’وَمَنْ أَتَى بِلَفْظَةِ الْكُفْرِ، وَهُوَ لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهَا كُفْرٌ إلَّا أَنَّهُ أَتَى بِهَا عَنْ اخْتِيَارٍ يَكْفُرُ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ خِلَافًا لِلْبَعْضِ، وَلَا يُعْذَرُ بِالْجَهْلِ كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ……………. الْخَاطِئُ إذَا أَجْرَى عَلَى لِسَانِهِ كَلِمَةَ الْكُفْرِ خَطَأً بِأَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِمَا لَيْسَ بِكُفْرٍ فَجَرَى عَلَى لِسَانِهِ كَلِمَةُ الْكُفْرِ خَطَأً لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ كُفْرًا عِنْدَ الْكُلِّ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ‘‘۔ (فتاوی ہندیہ، الباب التاسع فی أحکام المرتدین، ج۲ص۲۷۶، ط: دار الفکر، بیروت)
رد المحتار میں ہے: ’’لِأَنَّ الرِّضَا بِالْكُفْرِ كُفْرٌ‘‘۔ (رد المحتار، امام ابن عابدین شامی، کتاب الجھاد، باب العشر، مطلب فی أحکام الکنائس و البیع، ج۴ص۲۰۸) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۳؍ ذی القعدۃ ۱۴۴۱ھ
Lorem Ipsum